Posts

Image
       سو لفظی کہانی "عنوان  " پچھتاوا "اشک جو بیٹھے بہا رہے ہو اب تمھارے کسی کام نہ آوے ہیں" اُس کا ضمیر چیخ چیخ کر یہی ایک جملہ دہرا رہا تھا "میرا قلب پشیمانی کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ کیا ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تماشا تکتا رہوں" وہ ہارے ہوئے جواری کی سی خود سے ہمکلام ہوا تھا "بے جا من مانی اور نافرمانی کرنے والوں کے مقدر میں راکھ ہونا تلخ حقیقت ہے۔تمھارا ملال اور پچھتاوا کسی بھی کوتاہی اور ناجائز فعل کا حل نہیں۔اُٹھو آگے بڑھو ، پچھتاوا جو تمھارا ہم منزل ہے سے چھٹکارا مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں" اور ضمیر نے اسے سوچ میں غرق چھوڑ کر خامشی اوڑھ لی۔      مصنفہ : من تشاء درانی ،فیصل آباد